نئی دہلی، 28؍فروری(ایس اونیوز/آئی این ایس انڈیا )دہلی یونیورسٹی کی طالبہ گرمیہر کور کی طرف سے سوشل میڈیا پر شروع کی گئی مہم کے بعداس پرلگاتارتنازعہ بڑھتاہی جارہاہے۔تنازعہ کے بڑھنے کے بعد کئی مشہور شخصیات کے ساتھ ساتھ سیاسی پارٹیاں بھی اس تنازعہ پر ٹوئٹر وار میں کود گئی ہیں۔گرمیہر کور کی حمایت میں کھل کر آئے کانگریس نائب صدر راہل گاندھی نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ خوف کی تاناشاہی کے خلاف ہم اپنے طالب علموں کے ساتھ ہیں، غصہ ، عدم برداشت اور جہالت میں اٹھی ہر آواز کے لیے ایک گرمیہر کور ہوں گی۔اس کے بعد دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال نے بھی بی جے پی پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ بی جے پی اب مجرموں اورغنڈوں کی پارٹی بن گئی ہے، یہ خود ملک مخالف نعرے لگواتی ہے ، نعرے لگانے والے بھاگ جاتے ہیں اور پھر یہ دوسروں کوپیٹتے ہیں، کہیں بھی نعرے لگانے والے پکڑے کیوں نہیں گئے،اس کے ساتھ ہی کانگریس کے سینئر لیڈر کپل سبل نے ٹوئٹ کرکے کہاکہ گرمیہر کور کو عدم برداشت والی ذہنیت کا شکار بنایا جا رہا ہے،اس کی حب الوطنی پر سوال اٹھائے جا رہے ہیں جو کہ جمہوریت کا المیہ ہے، ہم نے ہندوستان میں یہ خواب تو نہیں دیکھا تھا۔وہیں کانگریس صدر سونیا گاندھی کے داماد رابرٹ واڈرا نے بھی اس معاملے پر ٹوئٹ کرکے کہاہے کہ میں آپ کے ساتھ ہوں اور جو بھی لوگ اپنے حقوق اور اظہار رائے کی آزادی کے حق میں ہیں، میں ان سب کے ساتھ ہوں، ملک کو آپ پر فخر ہے کہ آپ فاشسٹ طاقتوں سے لڑ رہی ہیں۔کانگریس کے گرمیہر کے حق میں اتر نے کے بعد اس مسئلے پر بی جے پی اور کانگریس لیڈروں کے درمیان تیکھی بیان بازی کادورشروع ہو گیا ہے۔راہل پر نشانہ سادھتے ہوئے وزیر اعظم کے دفتر میں وزیر مملکت جتندر سنگھ نے کہاکہ راہل گاندھی کو یہ صاف کرنا چاہیے کہ کیا وہ اور ان کی پارٹی قیادت ان کے کچھ ساتھیوں کی طرف سے دئیے گئے بیان کی حمایت کرتے ہیں؟َََ۔دوسری طرف سابق کرکٹر وریندر سہواگ نے اس معاملے پر ٹوئٹ کیا، تو اب اس جنگ میں پہلوان یوگیشور دت بھی کود گئے ہیں۔کانگریس لیڈر پرمود تیواری نے سابق کرکٹر وریندر سہواگ پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا ہے کہ سیاسی منشا ہونا سب کا حق ہو سکتا ہے لیکن اس بار سہواگ گیند کو ٹھیک طریقے سے نہیں پڑھ پائے اور ہٹ و کٹ ہو گئے ہیں ۔